Friday, September 29, 2023

Free 4000+ YouTube Watch Time

0 comments


YouTube Watch Time 4k Free


Monday, September 25, 2023

YouTube 1k free subscribers

0 comments



Break Your 1,000-Subscriber Goal Into Small Chunks. ... 

Create Videos for One Target Audience. ...

 Create the Most Popular Kinds of Content. ...

 Take YouTube Keywords, Thumbnails, and Video Titles Seriously. ... 

Create Videos That Deliver on Their Promise.

Get 1k free subscribers 
Click here  

Saturday, July 22, 2023

وہ 5 چیزیں جو گرمیوں میں جسم کی چربی کم کرتی ہیں

0 comments

گرم موسم میں جسم میں پانی کی کمی کو پورا رکھنا اور ایسے کھانے کھانا جس سے جسم کی چربی کم ہو نہایت اہم ہے۔

اسی سلسلے میں ماہر خوراک ڈاکٹر پراتیکشاہ بھردواج نے ہندوستان ٹائمز کے ساتھ ایسی کھانے کی چیزیں شیئر کی ہیں، جو کہ گرمیوں میں چربی کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔

کھیرا

کھیروں میں کیلوریز کم ہوتی ہیں جب کہ اس میں پانی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جس کے باعث وزن کم کرنے کے دوران یہ ایک اہم کھانے کی چیز بن سکتے ہیں۔ کھیرے میں فائبر کثرت سے پائی جاتی ہے جس سے آپ جسم میں توانائی محسوس کرتے ہیں، کھیروں کو بطور سلاد اپنی ڈائٹ میں شامل کر سکتے ہیں۔

لوکی

لوکی ایسی سبزی ہے جس میں فائبر، وٹامنز اور معدنیات بھرپور مقدار میں پائے جاتے ہیں، اس میں کیلوریز کم ہوتی ہیں اور پانی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو کہ وزن کم کرنے میں اسے بہترین کھانے کی چیز بناتی ہے۔

سبز چائے

سبز چائے وزن کم کرنے کی خصوصیات کے باعث مشہور ہے اور اگر گرمیوں کے موسم میں آئس گرین ٹی کا استعمال کیا جائے تو اس سے وزن کم کرنے میں معاونت حاصل ہوتی ہے۔ کیوں کہ سبز چائے میں اینٹی آکسیڈنٹس ہوتے ہیں جو ہمارے جسم کے میٹابولزم کو بڑھاتے ہیں اور چربی پگھلاتے ہیں۔

چھلی

مکئی کے دانے فائبر سے بھرپور ہوتے ہیں اور اِن میں اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں، ان میں چربی اور کیلوریز کم ہوتی ہیں جس کی مدد سے آپ گرمی کے موسم میں تیزی سے وزن کم کر سکتے ہیں۔ آپ اُبلی ہوئی چھلیاں سلاد میں ڈال سکتے ہیں یا پھر چھلیوں کا مزیدار سلاد بنا کر کھا سکتے ہیں۔

سیب کا سِرکہ

سیب کا سِرکہ ایسٹک ایسڈ کا بہترین ذریعہ ہے جس کے اسٹمک ایسڈ پیدا ہوتا ہے جس سے کم ایسڈ والے افراد میں کھانا جلدی ہضم ہوتا ہے اور وزن میں کمی آتی ہے۔

گل، تبسم کہہ رہا تھا زندگانی کو، مگر

0 comments

زندگی میں اگر کوئی محبت کو ، اور خدا کے سائے کو ڈھونڈنا چاہتا ہے یا اپنے والدین کے پیار کو تووہ اپنے اُستاد کی عزت کریں۔ کچھ باتیں اتنئ حساس اور ناُزک ہوتی ہے جس کا ہمیں پتہ تو ہوتا ہے لیکن اندازہ نہیں۔ اسی طرح کچھ دن پہلے مجھے اندازہ ہوا کہ ایک شاگرد اپنے دل میں اُستاد کیلئے کتنی محبت، عزت و احترام رکھتا ہے۔میرے بہت ہئ قابل احترام اُستاد، اُس میں بہت سی خوبیوں کے علاوہ ایک خوبی یہ ہے کہ اللہ نے اُس کے لب و لہجے کو خوض کوثر جیسے مٹھاس سے فیضیاب کیا ہے۔میرا اپنے محترم اُستاد سے ہمیشہ رہنے والی تعلق کا سلسلہ آج سے ساڑھے چار سال پہلے کُرسی سے شروع ہوا مجھے اپنے اساتذہ بہت ہئ عزیز اور قریب ہے لیکن مجھے جو عقیدت و احترام اس اُستاد سے ہے اُس کی شدت کا اندازہ مجھے کچھ دن پہلے ہوا جب ایک دوست کے ذریعے معلوم ہوا کہ وہ کچھ عرصہ سے ایک قابل علاج بیماری اپنے پورے توانائی سے اور ہمت و حوصلے سے لڑرہے ہیں، تو آنکھوں میں آنسو آگئے اور مالک قُل سے دل میں اپس بچے کی مانند جو دنیا و مافیہا سے بے خبر ہوتا ہے اور اہنی ماں کو روتا ہے اپنی ضد منوا رہا ہوتا ہے ، کھڑے کھڑے فریاد شروع کی کیونکہ میرا اللہ یہ نہیں کہتا کہ تم دُعا مانگنے کے لئے وضو کروگے اور مسجد کے کسی کھونے میں مجھ سے کلام کروگے نہیں وہ تو بے نیاز ذات ہے بس دلوں کو ، نیتوں کو دیکھ کر اپنے بندے کو نوازتا ہے پھر یہ نہیں دیکھتا کی اس نے تو ساری زندگی میرئ نافرمانیاں کی ہے ، اور کہا کہ اے اللہ جب اُستادوں کا ہم پھر سر فخر سے اور سینہ تھان کر چلنے کا وقت آیا تو تو نے ہم کو بےبس کردیا۔۔۔۔۔ یا اللہ نیری زندگی میرے اُستاد کو دیں لیکن اُس کو صحت عطا کریں مجھے تمہارے خدائی کی قسم کہ میرے اُستاد کی ایک مسُکراہٹ کی قیمت دنیا میں کوئی ادا نہیںکرسکتا تمہارے پاس تو ہر چیز کی خزانے ہیں نا بس صرف کُن کہہ دے میرے مولا میرے آنسوؤں کے طفیل اُس کی مُسکراہٹ کو واپس کردیں۔


گھر آکر جیسے میرئ زندگی ہئ اُجڑ گئی بس اُس کے ساتھ گُزرے پل ، اُس کا بولنا، اُس کا رعب دار انداز میں چلنا کبھی چشموں کو آنکھوں سے اُتار کر اُس کا صاف کرنا تخیل میں ایک تسلسل کے ساتھ چل رہا تھا۔

سر میں نے آپ سے کرنے کو بہت سی باتیں دل میں جمع کر رکھی ہے بس ہمت ہی نہیں ہورہی کہ کیسے اور کب کروں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں اضافے کا اعلان

0 comments


پنجاب کے سرکاری ملازمین کیلیے بڑی خوشخبری یہ ہے کہ ان کی تنخواہیں اور پنشن وفاقی حکومت کے ملازمین کے مساوی کر دی گئی۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق ذرائع کا بتانا ہے کہ صوبائی ملازمین کی تنخواہیں اور پنشن مساوی کرنے کا فیصلہ نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق تنخواہوں میں 35 فیصد جبکہ پنشن میں 17 فیصد اضافے کے فیصلے کی منظوری دے دی گئی، تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کا اطلاق ملازمین کی بنیادی تنخواہ پر ہوگا۔

قبل ازیں پنجاب حکومت نے ملازمین کی تنخواہوں میں 30 فیصد اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا جسے سرکاری ملازمین کی یونین اور ایپکا نے مسترد کر دیا تھا۔

آج نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے بیوروکریسی پر نوازشات کی بارش کر دی۔ 200 بیوروکریٹس کیلیے نئی گاڑیوں کا آرڈر دے دیا۔ عوام کے ٹیکسوں کے اربوں روپے افسروں کی نئی سواریوں پر خرچ ہوں گے۔

نئی گاڑیاں 2 ارب تیس کروڑ روپے میں خریدی جائیں گی۔ محکمہ خزانہ نے ایڈوانس فنڈ جاری کرنے کیلیے خط لکھ دیا۔ پنجاب کے تمام اسسٹنٹ کمشنرز کو کرولا 1600 سی سی دی جائیں گی۔

پنجاب کے ہر ضلع کے اسسٹنٹ ڈپٹی کمشنر جنرل کو یارس 1300 ملیں گی۔ ہر تحصیل کے اسسٹنٹ کمشن کیلیے ڈبل کیبن ڈالے دیے جائیں گے۔

جنگل اور جمہوریت

0 comments


دنیا میں کسی بھی قوم اور نسل کی تربیت کا پتہ ہمیشہ اس کے معاشی نظام یعنی رزق کے حصول اور تعلیمی نصاب سے ہی ہوتا ہے ۔بیسویں صدی سے پہلے تک کرہ ارض کی قوموں کا یہ دونوں ہی نظام اپنے مذہب اور علاقے کی نسبت سے نہ صرف مختلف رہا ہے لوگوں کے مذہبی رجحان کی وجہ سے انسانی معاشرہ کسی حد تک بدعنوانی اور خرافات سے بھی پاک رہا ہے لیکن بیسویں صدی کے گلوبل انقلاب کے بعد پہلے تو معاشی نظام کو بینکوں کے سودی کاروبار کے ذریعے عالم گیریت میں تبدیل کیا گیا بعد میں عالمی تجارت کے مدنظر تعلیمی نصاب نے بھی گلوبلائزیشن کی شکل اختیار کر لی ۔اس طرح مشرق سے لیکر مغرب اور شمال سے لیکر جنوب تک انسانی معاشرے کی سوچ میں یکسانیت پیدا ہونا بھی لازمی تھا ۔بدقسمتی سے پریس یا اخبارات جو لوگوں کو حالات سے باخبر کرنے کیلئے ہوتے تھے انہیں اس نظام کے مخصوص بیانیہ یا discourse کو ہموار کرنے کے لئے استعمال کیا جانے لگا ۔یعنی نئی سیاسی تہذیب نے سرکاری اشتہارات کے ذریعے پریس کو نئے ورلڈ آرڈر کے اشتہار کے طور پر استعمال کرنا شروع کردیا ۔بلکہ یوں کہیں کہ اب جو اس گلوبل سوچ کے برخلاف سوچنے کی جرآت کرتا ہے اسے اسی پریس اور ٹی وی چینل کے ذریعے بنیاد پرست اور انتہا پسند کہہ کر لعنت ملامت کیا جاتا ہے اور ایسے کسی اخبار یا چینل کو سرکاری اشتہار کبھی نہیں ملتے جو موجودہ گلوبل سیاسی نظام سے اختلاف رکھتا ہو ۔یہ انقلاب تقریبا ایک صدی میں مکمل ہو گیا اور ہم آج بھی اس عالمی سرمایہ دارانہ جمہوری نظام کے خوبصورت فریب سے باہر نہیں نکل پارہے ہیں تو اس لئے کہ فتنہ ہمیشہ اپنے ظاہر کے ساتھ بہت ہی خوبصورت اور مہذب ہوتا ہے ۔یعنی اس نظام کا معاشی اور تعلیمی نظام کا ظاہری پہلو اتنا خوبصورت ہے کہ بھارت میں مرحوم وحیدالدین خان ،ڈاکٹر رفیق زکریا اور پاکستان میں جاوید احمد غامدی جیسے اسلامی اسکالروں نے باقاعدہ قرآن وحدیث کے حوالے سے اس کے حق میں تبلیغ شروع کر دی ۔اس کے علاوہ ملی تنظیموں اور دانشوروں نے بھی اپنی جدوجہد کا نوے فیصد حصہ مغربی تعلیم کے حصول پر لگا دیا ہے ۔جہاں تک کسی شئے کے باطن کی غلاظت کا اندازہ لگانے کی بات ہے تو اس کے لئے علم کے ساتھ ساتھ تقوی بھی لازمی ہے ۔سوال یہ ہے کہ جب آپ کا رزق ہی سود پر مبنی ہو اور تعلیم میں ریاکاری اور گلیمر شامل ہو تو فراست بھی کیسے ممکن ہے ۔جب کوئی قوم فراست سے محروم ہو جائے تو صرف فلسفہ رہ جاتا ہے روحانیت نہیں ۔


اسی طرح موجودہ جمہوریت کا سب سے خوبصورت پہلو یہ ہے کہ عوام کو اپنے حکمرانوں کے انتخابات کا حق حاصل ہے بس ۔لیکن اس فریب سے پچھلی صدی کی عبقری شخصیات بھی محفوظ نہ رہ سکیں ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اس نظام کے تحت اول دور کے جو سیاسی رہنما قانون ساز اسمبلیوں کی نمائندگی کیلئے منتخب ہوۓ ان میں کچھ اخلاقایات اور غیرت کا خمیر موجود تھا لیکن اس وقت بھی جو شخصیات مومنانہ فراست سے لبریز تھیں انہوں نے ان کی مکاری پر سے بھی پردہ اٹھا دیا تھا ۔جیسا کہ علامہ نے کہا تھا کہ

دیو استبداد جمہوری قبا میں پاۓ کوب

تو سمجھتا ہے یہ آزادی کی ہے نیلم پری

آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ایک طرف عوامی رائے شمارے کے ذریعے حکمرانوں کی تبدیلی کا ڈرامہ جاری رہا دوسری طرف نئی نسل کی جس طرح فحش معاشی اور تعلیمی نصاب کے ذریعے تربیت ہورہی تھی ان کی ترجیحات میں اخلاقیات کا کوئی تصور ہی باقی نہیں رہا ۔

یعنی بھارتی جمہوریت اور لبرل طرز سیاست کی بیس سالوں میں ہی اتنی بدعنوان ہو چکی تھی کہ 1970 کے قریب ہی جئے پرکاش نرائن کو ایک نئے سوشل انقلاب کا نعرہ لیکر اٹھنا پڑا ۔لیکن لوہیا اور جئے پرکاش نارائن یا کاشی رام کے پاس سیاست کا کوئی ٹھوس اخلاقی اور الہامی نظریہ ہی نہیں تھا ۔وہ بھی اس بات سے نابلد تھے کہ جس گلوبل فتنے میں وہ قید ہیں اب کوئی بھی سیاسی انقلاب سیاسی پارٹی تو تبدیل کر سکتا ہے لیکن اس ملک کا معاشی اور تعلیمی نصاب وہی ہوگا جو عالمی ساہو کار چاہیں گے ۔ہم نے دیکھا بھی کہ تھوڑی دیر کیلئے جنتا پارٹی یا جنتا دل جیسی سیاسی پارٹیوں کی شکل میں تبدیلی آئی بھی لیکن کیا نظام میں کوئی فرق پڑا ۔کیا بھارت تبدیل ہوا ۔2014 کے بعد اچھے دنوں کے نعرے کے ساتھ ایک تبدیلی پھر آئی لیکن کیا اچھے دن آۓ ؟

وہی لوگ جن کے اقتدار میں بلقیس بانو کی عصمت دری کا واقعہ اور عشرت جہاں کے انکاؤنٹر کی واردات انجام دی گئی اور اس واردات کے مجرمین آزاد بھی کر دئے گئے آج ہم انہیں لوگوں سے امید لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ منی پور فساد کے مجرموں کو سزا دیں گے ۔

اگر بلقیس بانو اور عشرت جہاں کو 2004 میں ہی انصاف مل گیا ہوتا تو بیس سال بعد 2023 میں منی پور کے فساد کے دوران فسادیوں کی بھیڑ دو برہنہ عورتوں کو برہنہ گھمانے اور ان کی عصمت دری کی جرات نہیں کر سکتی تھی ۔لیکن میں اس کے لئے صرف اس فسادی بھیڑ کو ہی ذمہ دار نہیں مانتا جو اپنی مادہ پرستانہ سوچ کی وجہ سے خونخوار درندوں میں تبدیل ہو چکے ہیں بلکہ انصاف کے اس نظام کو بھی ذمہ دار مانتا ہوں جس نے بلقیس بانوں کے مجرموں کو آزاد کردیا ۔ایک جج نہ صرف عوامی ضمیر کو مطمئن کرنے کیلئے افضل گرو کو پھانسی کی سزا دیتا ہے آخری وقت میں ایک شخص کو اپنی بیوی اور بچوں سے ملنے کی اجازت بھی نہیں دی جاتی ۔میں اس کا ذمہ دار اس عدالتی اور سیاسی نظام کو سمجھتا ہوں جس نے ایک مسجد کو یہ کہتے ہوۓ ایک فرقے کے حوالے کردی کہ ایسا کرنا اکثریت اور ملک کی سلامتی کے حق میں ہے !

اور اس فیصلے کے جج کو راجیہ سبھا کا ممبر بنا دیا جاتا ہے ؛

میں اس نظام کی ناکامی کا قصہ روۓ زمین کی سب سے بڑی جمہوریت امریکہ سے بھی شروع کر سکتا ہوں جس نے دوسری عالمی جنگ کے بعد سے مسلسل ویتنام ،عراق ، افغانستان ، سومالیہ ، لیبیا اور شام میں قتل اور خون کا وحشت ناک کھیل کھیلنے کی روایت شروع کی اور ابھی تک جاری ہے ۔

آپ اس مغربی جمہوریت کا چہرہ بنگلہ دیس اور پاکستان میں بھی دیکھ سکتے ہیں ۔ پچھلے ستر اسی سالوں میں کہیں سے بھی جمہوریت کی کوئی ایسی مثال نہیں ملتی جو موجودہ جمہوری صدی میں سنہرے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہو ۔ہاں ہر طرف ہر دن ہر سیکنڈ اور منٹ میں قتل و خونریزی ، عصمت دری لوٹ مار ، فحاشی ، بدعنوانی ، فریب اور ناانصافی کا جو ننگا ناچ کھیلا جارہا ہے اخبارات اور ٹی وی چینل اسے مزے لے لے کر دکھا رہے ہیں ۔سچ تو یہ ہے کہ اب ظلم و زیادتی یا قتل و غارت گری کی واردات پر زیادہ دیر چیخنا چلانا اور احتجاج کرنا بھی کسی سیاسی پارٹی اور عوام کی دلچسپی کا موضوع نہیں رہا ۔لوک سبھا میں بھارت کے وزیر اعظم نے منی پور کی تین برہنہ عورتوں کی انسانیت سوز واردات کے انکشاف کے بعد ان کے حق میں صرف چھتیس سیکنڈ کا ایک بیان درج کروایا ہے کہ قصورواروں کو بخشا نہیں جاۓ گا !

کیا کہا جائے اب تو لوگوں کی سوچ اور ترجیحات کا اصل موضوع بھی یہ ہے کہ حکمراں ان کے معاشی اور تعلیمی نظام کے ذریعے ان کی روزی روٹی اور تجارت کو خوبصورتی سے بحال کر دیں بس ۔ اب کسی کو انصاف اور اخلاقیات کی بحالی پر بحث کرنے کی بھی فرصت کہاں ۔اب کون کس سے یہ سوال کرے کہ شرجیل امام اور عمر خالد کو پابند سلاسل ہوۓ ایک ہزار سے زیادہ دن کیوں ہوۓ یا آفرین فاطمہ کے والد جاوید احمد کو ایک سال یا عافیہ صدیقی کو پندرہ سال سے قید کیوں کر رکھا گیا ہے ۔

مسلسل ہو رہے ہجومی تشدد کے واقعات ہوں یا ہاتھ رس کی دلت لڑکی کی عصمت دری کا سانحہ یا خاتون پہلوانوں کے جنسی دست درازی کے معاملات یا کٹھوا کی آصفہ کی عزت و عصمت کی بے حرمتی کا معاملہ۔ ایسے بے شمار واردات ہیں جو ہماری جمہوریت کو مسلسل داغدار کرتے رہتے ہیں اور جمہوری حکمرانوں کے کان پر جوں بھی نہیں رینگتی ۔زیادہ دن نہیں ہوۓ جب عتیق اور اشرف کو پولیس کی تحویل میں سرعام میڈیا کے سامنے ہی قتل کر دیا گیا اور ہماری پولیس تماشا دیکھتی رہی ۔مگر سب کے باوجود کشمیر فائل ، کیرلا اسٹوری اور بہتر حوروں کے نام سے فلمیں ریلیز کر کے ایک مخصوص مذہب کے لوگوں کے خلاف نفرت کا بیانیہ تیار ہو رہا ہے ۔سوال یہ ہے کہ جب حکومت کی پشت پناہی میں اس طرح نفرت کی فضا ہموار کی جاۓ گی تو وہ نسل جسے موجودہ تعلیمی اور معاشی نظام کے تحت پوری طرح مادہ پرست بنا دیا گیا ہے ان کے ہاتھوں میں ان کی اپنی ماں بہن بھی محفوظ رہ پائیں گی ؟

اب 2024 کے انتخابات کیلئے چھبیس سیاسی پارٹیوں کے سیاسی رہنماؤں نے جس میں کوئی بھی مسلم سیاسی پارٹی نہیں ہے مل کر مرکز کی موجودہ سیاسی پارٹی کا متبادل تلاشنا شروع کر دیا ہے۔ لوگ بھی خوش ہیں کہ تبدیلی ضرور آۓ گی ۔ہمیں بھی امید ہے کہ نیا سیاسی اتحاد مرکز میں اپنی حکومت بنا لے گا ۔لیکن سوال پھر وہی ہے کہ کیا ملک میں انصاف بھی بحال ہو جاۓ گا ۔کیا ان کی حکومتوں میں بھاگل پور مرادآباد ،ممبئ میرٹھ ملیانہ گجرات منی پور جیسے فسادات نہیں ہوں گے اور کیا بے قصور انصاف پسند نوجوان سماجی کارکنان اور صحافیوں کی گرفتاری نہیں ہو گی !!!


Wednesday, July 12, 2023

بچوں اور بڑوں میں مرض کی شناخت کرنے والا ’لولی پاپ‘ ایجاد

0 comments

واشنگٹن: سائنسدانوں نے لولی پاپ میں تھوڑی سی ترمیم کرکے اسے منہ اور سانس کے امراض کی شناخت کرنے والے ایک معتبرآلے میں تبدیل کردیا ہے۔

کئی امراض کی شناخت میں حلق کی گہرائی میں سے لعاب کے نمونے درکار ہوتےہیں۔ اس عمل سے بچے دور بھاگتےہیں۔ اسی مشکل کو دیکھتے ہوئے جامعہ واشنگٹن کے سائنسدانوں نے ایک برقی آلہ بنایا ہے جس پر کوائل نما ابھار ہیں۔ اس کی دوسری جانب لالی پاپ کی ٹافی چپکائی گئی ہے۔ اب بچے اور بڑے پرلطف انداز میں اسے استعمال کرتے ہیں اور اس دوران انسانی تھوک اندر کے خانے میں جمع 
ہوتا رہتا ہے۔

کینڈی کلیکٹ نامی اس ایجاد میں جمع ہونے لعاب کو تجربہ گاہ میں پہنچاکر اس کا
 تجزیہ کیا جاتا ہے۔ اس طرح کئی امراض کی شناخت کے لیے لعاب جمع کرنے والا ایک مؤثر اور مفید نظام سامنے آیا ہے۔ اس لعاب کو پی سی آر یا دیگر طریقوں سے گزار کر مرض کی تشخیص کی جاسکتی ہے۔ کووڈ 19 کے دور میں اسی عمل سے کورونا وائرس کی تشخیص کی جاتی رہی ہے۔ لولی پاپ استعمال کرتے ہوئے ماہرین نے تھوک میں موجود اسٹریپٹوکوکس میوٹنس اور اسٹیفلوکوکس آریئس جیسے انتہائی مہلک بیکٹیریا کی کامیاب شناخت کی ہے۔ جب جب اس لولی پاپ کو آزمایا گیا اس کے 100 فیصد نتائج سامنے آئے جو ایک قابلِ قدر پیشرفت ہے۔